میرا آج کا کالم
کالم نگار :انتظار احمد اسد
جد پراچگان ,میاں محمد
اشرف پراچہ نقشبندی ,ایک تحقیق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……….
مولوی سعید احمد زین پوری مولانا محمد ذاکر بگوی رح کے چہیتے شاگرد اور عاشق صادق تھے _مولانا ذاکر بگوی رح حضرت خواجہ محمدالدین ثانی سیالوی رح اور حضرت ضیاءالدین ثالث سیالوی رح کے مرید اور خاص خلفاء میں سے تھے _آپ پر محبت شیخ کا غلبہ ہوتا تو راتوں کو بھیرہ سے پاپیادہ چل پڑتے اور مرشد خانے پہنچ جاتے _عشق ومحبت کے اس سفر میں مولانا سعید احمد زین پوری آپ کے ہمراہ ہوتے تھے _مولوی سعید احمد زین پوری اعلی پائے کے ادیب ، شاعر اور لکھاری تھے _انھوں نے اعلی حضرت ثانی رح وثالث رح سیالوی کے ملفوظات کو شعری محاسن کے ساتھ منظوم طور پر ایک کتاب “جذبات سعید” میں محفوظ کر دیا تھا _ “جذبات سعید “کا یہ اسلوبیاتی حسن ہے کہ غزلوں میں موجود اشعار کے ساتھ حواشی میں مختلف واقعات کی تفاصیل نثری صورت میں اتنے خوب صورت انداز میں لکھیں گئیں ہیں کہ قاری بار بار انھیں پڑھ کر حظ اٹھاتا ہے _”جذبات سعید” آج سے ڈیڑھ صدی قبل لکھی گئی تھی، لیکن سالکین و عاشقین کے لئے اس کی کشش آج بھی قائم ہے _راقم نے اسے پندرہ سال قبل حاصل کرنے کے بعد بارھا پڑھا اور حظ اٹھایا _کتاب کے آخری صفحات ان شعری قطعات پر مشتمل ہیں جو مختلف تاریخی مواقعوں ، شخصیات اور ان کی وفات پر لکھے گئے تھے _ان میں سے ایک کا عنوان یوں ہے _”قطعہ تاریخ میاں قاسم دین خلیفہ میاں محمد اشرف بھیروی” _اس قطعہ کے اشعار کی تشریح میں درج ہے کہ” میاں محمد اشرف محلہ پراچگان بھیرہ کے رہنے والے بڑے عالم اور خاندان نقشبد کے مجاز خلیفہ تھے” _میاں قاسم دین کا مادہ تاریخ وفات اس قطعہ کے پانچویں مصرعہ میں 1892 ہے _اس قطعہ کے ایک شعر کے مطابق قاسم دین اپنے مرشد کے پاس جنت میں پہنچ گئے ہیں یعنی مرشد میاں اشرف ان سے پہلے رحلت فرما گئے تھے _راقم نے یہ سب پڑھ کر محلہ پراچگان کے بزرگوں ،تصوف سے متعلق شخصیات اور شہر بھیرہ کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب: پیر نور سلطان قادری ،برادرم میاں نعیم الدین ،صاحبزادہ ابرار احمد بگوی ، ڈاکٹر انوار احمد بگوی اور شہر کے دیگر قلم وقرطاس سے دلچسپی رکھنے والے احباب سے اس حوالے سے مدد چاہی لیکن تحقیقی صورت میں کوئی سرا نہ ملا _ ایک دن چیف الیکشن کمشنر پاکستان راجا سکندر سلطان کے گاوں موضع چھانٹ میں موجود ایک بزرگ ٹیچر عبدالرحمان نے دوران گفتگو فرمایا :میاں اشرف کی قبر پیر ملامہ قبرستان نزد موٹر وے سروس ایریا بھیرہ میں موجود ہے _راقم نے یہ سن کر سرشار ہوا ،گویا جس کی تلاش تھی وہ گوھر مراد مل گیا _لیکن وہ کون تھے ؟_کس خاندان سے تھے ؟ _ اور محلہ پراچگان میں کس جگہ ان کا آستانہ تھا ؟۔۔۔یہ سب معلومات ابھی میسر نہیں تھیں _ راقم نے جامع مسجد شیر شاہی بگویہ بھیرہ میں خانقاہ سراجیہ کندیاں کے مسند نشین حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب سے صدیق اکبر پراچہ اور صاحبزادہ ابرار احمد بگوی کی معیت میں اس حوالے سے بات کی، لیکن تشنگی قائم رہی_تاآنکہ اچانک حکیم نورالدین بھیروی کی سوانح “مراةالیقین فی حیات نورالدین “نظر سے گزری _راقم نے دوسو سال پہلے کی “تاریخ بھیرہ “جاننے کے لئے اس سوانح پرنظر ڈالی تو ایک جگہ میاں محمد اشرف کا ذکر مل گیا _صاحب کتاب کے مطابق “وہ بھیرہ کے معتبر عالم دین اور ولی اللہ تھے _ان سے منسوب جو عجب واقعات کتاب مذکورہ میں موجود ہیں یہ کالم ان کا متحمل نہیں ہوسکتا _لیکن میاں محمد اشرف نقشبدی کے حوالے سے بہت سے سوالات ابھی بھی تشنہ ہی تھے _خدا بھلا کرے عزیزم نومان کا جو گور نمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ کے ماسٹر ہیں _ انھوں نے پچھلی صدی کے بھیرہ کے معروف پنجابی شاعر مولوی دلپذیر کا ایک بوسیدہ لیکن معلومات سے بھرپور شعری مجموعہ راقم کو عنایت کیا _ اس میں شاعر کے حالات زندگی بھی تھے _ اس کتاب کے ابتدائی صفحات پر ہی مولوی میاں محمد اشرف نقشبدی کا تذکرہ موجود تھا _ دل پذیر کے مطابق” ان کے والد کرم دین جو یعد میں مولوی کرم الہی کے نام سے معروف ہوئے، بچپن میں مولوی میاں محمد اشرف نقشبدی کے پاس پڑھنے جاتے تھے _ یہ دور مغلیہ خاندان اور رنجیت سنگھ کا تھا _کرم دین کی رہایش دربار پیرسبحان شاہ گیلانی کے پاس تھی اور پیر شہابل شاہ گیلانی بن پیر سبحان شاہ گیلانی، کرم دین کے مرشد اور سرپرست تھے _مولوی محمد اشرف نقشبدی باشرع عالم دین اور صاحب کشف کرامت بزرگ تھے _آپ کا نسبی تعلق خاندان پراچگان بھیرہ سے تھا _آپ کا آستانہ اس وقت مسجد ڈڈوو والی جس کا موجودہ نام مسجد لسوڑے والی ہے، میں تھا _کرم دین کو پڑھانے آپ پیر شہابل شاہ گیلانی کے پاس مسجد دربار پیر سبحان شاہ میں بھی آیا کرتے تھے” _لیکن میاں اشرف نقشبندی پراچگان کی کس شاخ سے تھے یہ بات ابھی بھی واضح نہیں ہوئی تھی _ اس سلسلے میں راقم نے اپنے مہربان جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے رابطہ کیا _ انہوں نے کمال شفقت کے ساتھ ریسرچ کی اور کچھ مواد راقم کو بہم پہنچایا _ عزیزم نیر عباس پراچہ نے “تذکرہ پراچہ قبیلہ ” کے مطالعہ کا مشورہ دیا یوں بہت سا مواد سامنے آیا _صاحب” تذکرہ پراچہ قبیلہ “(حصہ اول )حاجی فیض الہی پراچہ کے مطابق “میاں محمد اشرف پراچہ نقشبندی پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم کے خلیفہ اور مرید تھے _ایک روایت کے مطابق سلطان العارفین سلطان باہو کے ہمعصر بھی انہیں بتایا گیا ہے” _ان کے مطابق اس گھرانے کو” میانیاں دا وڈا گھر “کہتے تھے _ اور یہ کہ ان کا فتوی مغلیہ دور میں دلی تک چلتا تھا _مصنف کے مطابق، معروف سیاست دان اور پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ شیخ احسان الحق پراچہ کے چچا معروف بیروکریٹ شیخ فضل الہی پراچہ جو بعد میں وفاقی وزیر بحالیات پاکستان بھی ہوئے ، جب بھی آبائی شہر بھیرہ آتے تو اپنے جد امجد میاں محمد اشرف کے مزار واقع پیر ملامہ قبرستان ضرور جاتے تھے _ صاحب “تذکرہ پراچہ قبیلہ” انکشاف کرتے ہیں کہ شیخ فضل الہی پراچہ لوہارو خاندان کے ایک درویش خضر شہزاد سے دلی میں نہ صرف بیعت تھے بلکہ ان کو ان سےخلافت بھی حاصل تھی _خواجہ خضر لوہارو خاندان کے قبرستان بستی نظام الدین دلی میں دفن ہیں _مصنف مزید لکھتے ہیں کہ اس پراچہ خاندان کے افراد کو پہلے میاں کہا جاتا تھا _بعد میں” شیخ ” ان کے نام سے منسلک ہوا _صاحب “تذکرہ پراچہ قبیلہ” کے مطابق مختار احمد پراچہ کی اہلیہ جو ان کی اولاد میں سے ہیں، کے گھرانے کے ایک فرد آسیب زدگی کا شکار ہوئے _ان کو پیر آف دیول شریف _ پیر عبدالمجید کے پاس لے جایا گیا _وہ چلا کشی میں مصروف تھے _انھیں باطنی طور پر آگاہی ہوئی کہ میاں محمد اشرف کے گھرانے کا کوئی فرد باہر موجود ہے اور تکلیف میں ہے _ وہ فورا باہر نکلے ، انہیں ادب کے ساتھ راولپنڈی کے ایک بزرگ کے پاس بھیجا _ یوں وہ بچہ تندرست ہو گیا _متحدہ ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا ظہور احمد بگوی رح نے اپنی کتاب” تذکرہ مشائخ بگویہ” میں مولانا احمد الدین بگوی رحمتہ اللہ علیہ کی روحانیت کے حوالے سے جہاں لکھا ،وہاں میاں محمداشرف کا ذکر بھی کیا ہے _ فرماتے ہیں کہ: حضرت خواجہ محمد اشرف جی مقبولان بارگاہ الہی میں سے تھے اور ان انوارات کا مشاہدہ کر لیتے تھے جو جامعہ مسجد بگویہ میں نمودار ہوا کرتے تھے _خواجہ محمد اشرف نقشبندی کی تاریخ وفات سے تو آگاہی نہیں ہوسکی لیکن دستیاب مواد کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی وفات 1860 سے 1892 کے درمیان ہوئی _ میاں محمد اشرف پراچہ نقشبندی بھیرہ کی تاریخ روحانیت کا وہ جھومر تھے جن سے ایک زمانہ فیضیاب ہوا لیکن موجودہ دور ان سے آشنا نہیں ہے _آپ کا مزار اسلام اباد ،لاہور موٹروے سروس ایریا بھیرہ کے ساتھ واقع پیر ملامہ قبرستان میں موجود ہے _
